بنگلورو،16؍مارچ (ایس او نیوز) نما میٹرو کے صارفین، بی ایم آر سی ایل کے ذریعہ مناسب اور حسب ضرورت احتیاطی اقدامات کرنے میں ناکامی پر سخت پریشان ہیں۔ کسی بھی عام کاروباری دن میں نما میٹرو کے صارفین کی تعداد 4.4 لاکھ ہوا کرتی ہے مگر دو دن قبل یہ تعداد اچانک 3.7لاکھ کو پہنچ گئی تھی،پچھلے دو تین دنوں سے مسلسل نما میٹرو استعمال کرنے والوں کی تعداد کافی کم ہی رہی ہے۔صارفین کی تعدادمیں یہ کمی اور گراوٹ دراصل کورونا وائرس یا کووڈ 19 سے متعلق فکر مندی کے دوران اسکول، کالج اور دفاتر وغیرہ میں چھٹیوں کے اعلان کے پس منظر میں واقع ہوئی ہے۔ کئی کمپنیوں کے ملازمین بھی اس وبا کے پیش نظر گھروں ہی سے کام کر رہے ہیں، بعض مسافروں کا کہنا ہے کہ خود بی ایم آر سی ایل ہی نے اپنی خدمات میں کمی پیدا کر لی ہے۔
انیل کرات نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں بی ایم آر سی ایل پر طنز کر تے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ”بنگلور میٹرو کورونا وائرس کے پھیلنے کے عمل کو پوری قوت کے ساتھ بڑھانے کے سلسلہ میں ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور اس کے لئے بی ایم آر سی ایل نے مصروف اوقات میں ریل گاڑیوں کے درمیانی وقفہ کو بڑھا کر سات منٹ کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں میٹرو ریل گاڑیوں میں مسافروں کا ہجوم بھی بڑھ گیا ہے،شکریہ، انہی دنوں میں پچھلے سال یہ وقفہ تین سے چار منٹ کا ہوا کرتا تھا، کچھ ماہ قبل یہ وقفہ پانچ منٹ کا ہو گیا تھا اور اب صورت حال یہ ہے“۔بی ایم آر سی ایل کے ایک افسر نے البتہ کہا ہے کہ ”ہم نے ریل گاڑیوں کے درمیانی وقفہ کو نہیں بڑھا یا ہے، ریل گاڑیوں اور اسٹیشنوں کی پاکی صفائی کے سلسلہ میں بھی ہم نے اضافی اقدامات اختیار کئے ہیں“۔